فون کی اسکرین بار بار بند ہو جاتی ہے؟ یہ سیٹنگز ٹھیک کریں

اسکرین کا بار بار بند ہونا کتنا پریشان کن ہے

آپ کوئی لمبا پیغام پڑھ رہے ہوں، باورچی خانے میں ترکیب دیکھ کر کھانا بنا رہے ہوں، بچے کی آن لائن کلاس چل رہی ہو یا آپ کوئی اہم دستاویز غور سے دیکھ رہے ہوں، اور اچانک اسکرین سیاہ ہو جائے۔ بار بار انگلی لگا کر اسکرین جگانا پڑے تو جھنجھلاہٹ فطری ہے۔ اگر فون ہاتھ میں ہوتے ہوئے بھی چند سیکنڈ میں بند ہو جائے تو اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسکرین خراب ہو گئی ہے یا فون کا کوئی بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ زیادہ تر صورتوں میں اسکرین خراب نہیں ہوتی۔ اصل وجہ عام طور پر ایک چھوٹی سی سیٹنگ، ایک غلط کور یا پروٹیکٹر، یا اوپر لگا ہوا ایک سینسر ہوتا ہے۔ نیچے وجوہات ترتیب سے دی گئی ہیں۔

خلاصہ: مرحلہ وار فہرست

  • اسکرین ٹائم آؤٹ ایک یا دو منٹ پر رکھیں، پندرہ سیکنڈ بہت کم ہے۔
  • خودکار روشنی بند کر کے آزمائیں، پھر ضرورت ہو تو دوبارہ آن کریں۔
  • پاکٹ موڈ بند کر کے اور کور اتار کر ایک دن جانچیں۔
  • اوپر والا سینسر خشک نرم کپڑے سے صاف کریں۔
  • پروٹیکٹر دیکھیں کہ وہ سینسر کو ڈھانپ تو نہیں رہا۔
  • بیٹری سیور بند کریں اور اس کے بعد ٹائم آؤٹ دوبارہ دیکھیں۔
  • مسئلہ صرف ایک ایپ میں ہو تو اس ایپ کی سیٹنگ اور تازہ کاری دیکھیں۔
  • آخر میں فون دوبارہ چلائیں اور سافٹ ویئر کی تازہ کاری لگائیں۔

پہلی وجہ: اسکرین ٹائم آؤٹ بہت کم رکھا ہے

ہر فون میں ایک سیٹنگ ہوتی ہے جو طے کرتی ہے کہ ہاتھ نہ لگانے پر اسکرین کتنی دیر بعد خود بخود بند ہو۔ اسے اسکرین ٹائم آؤٹ کہا جاتا ہے۔ اگر یہ صرف پندرہ یا تیس سیکنڈ پر رکھا ہو تو پڑھتے یا سوچتے ہوئے اسکرین بار بار بند ہو گی، کیونکہ فون سمجھتا ہے کہ آپ استعمال نہیں کر رہے۔

اسے ٹھیک کرنے کا طریقہ یہ ہے:

  1. سیٹنگز کھولیں اور ڈسپلے والے حصے میں جائیں۔
  2. اسکرین ٹائم آؤٹ یا نیند والی سیٹنگ تلاش کریں۔
  3. وقت بڑھا کر ایک منٹ یا دو منٹ کر دیں۔
  4. اب کوئی مضمون پڑھ کر دیکھیں، اسکرین پہلے سے زیادہ دیر روشن رہے گی۔

دو منٹ ایک اچھا توازن ہے۔ اس سے زیادہ رکھنے سے بیٹری جلدی ختم ہوتی ہے، خاص طور پر جب فون میز پر رکھا رہ جائے اور اسکرین جلتی رہے۔ اگر آپ لمبی ویڈیوز یا کتابیں پڑھتے ہیں تو دو منٹ رکھیں، روزمرہ استعمال کے لیے ایک منٹ کافی ہے۔

دوسری وجہ: خودکار روشنی اسکرین کو مدھم کر دیتی ہے

بعض اوقات اسکرین پوری بند نہیں ہوتی، صرف اتنی مدھم ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے بند ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ خودکار روشنی والی سیٹنگ ہوتی ہے، جسے اڈاپٹو برائٹنس کہا جاتا ہے۔ یہ سیٹنگ کمرے کی روشنی دیکھ کر اسکرین کی روشنی خود کم یا زیادہ کرتی ہے۔ سایہ پڑ جائے، ہاتھ اوپر والے سینسر پر آ جائے یا آپ دھوپ سے اچانک سائے میں چلے جائیں تو روشنی یکدم کم ہو جاتی ہے۔

سیٹنگز میں جا کر ڈسپلے کھولیں اور خودکار روشنی بند کر کے دیکھیں۔ پھر روشنی اپنے ہاتھ سے اتنی رکھیں جو آنکھوں کو آرام دے۔ اگر اس سے مسئلہ ختم ہو جائے تو وجہ یہی تھی۔ چاہیں تو بعد میں خودکار روشنی دوبارہ آن کر کے فون کو چند دن روشنی اور اندھیرے، دونوں جگہ استعمال کریں، تاکہ یہ سیٹنگ آپ کی عادت سیکھ لے۔ پاکستان میں گرمیوں کی تیز دھوپ میں یہ مسئلہ زیادہ نظر آتا ہے، کیونکہ باہر نکلتے ہی سینسر تیزی سے ردعمل دیتا ہے۔

تیسری وجہ: پاکٹ موڈ اور جیب میں غلط بندش

کئی فونز میں پاکٹ موڈ یا جیب میں حادثاتی ٹچ سے بچاؤ کی سہولت ہوتی ہے۔ یہ سہولت اس لیے ہے کہ جیب یا بیگ میں رکھا فون خود بخود نہ چلے اور کسی کو کال نہ مل جائے۔ لیکن کبھی کبھی یہ سہولت ضرورت سے زیادہ حساس ہو جاتی ہے۔ فون کو ہاتھ میں اس طرح پکڑیں کہ اوپر والا حصہ ڈھک جائے تو فون سمجھتا ہے کہ وہ جیب میں ہے اور اسکرین بند کر دیتا ہے یا انتباہ دکھاتا ہے۔

سیٹنگز میں تلاش والے خانے میں پاکٹ موڈ لکھ کر تلاش کریں۔ مل جائے تو اسے بند کر کے ایک دن فون استعمال کریں۔ اگر بندش رک جائے تو یہی وجہ تھی۔ موٹا کور استعمال کرنے والے قارئین بھی کور اتار کر آزمائیں، کیونکہ بعض سستے کور اوپر والے سینسر کو جزوی طور پر ڈھانپ لیتے ہیں اور فون کو یہی غلط اشارہ ملتا ہے۔

چوتھی وجہ: پروکسمیٹی سینسر گندا یا ڈھکا ہوا ہے

فون کے اوپر والے کنارے پر ایک چھوٹا سا سینسر ہوتا ہے جسے پروکسمیٹی سینسر کہا جاتا ہے۔ کال کے دوران جب آپ فون کان سے لگاتے ہیں تو یہی سینسر اسکرین بند کر دیتا ہے، تاکہ گال سے غلطی سے کوئی بٹن نہ دبے۔ کال ختم کر کے فون کان سے ہٹائیں تو اسکرین واپس جلنی چاہیے۔ اگر کال کے دوران یا کال کے بعد اسکرین نہ جلے، یا عام استعمال میں بھی اچانک سیاہ ہو جائے تو یہ سینسر گندا، ڈھکا ہوا یا الجھا ہوا ہو سکتا ہے۔

یہ آسان جانچ کریں:

  1. نرم اور خشک کپڑے سے فون کا اوپر والا کنارہ اور سامنے والا کیمرہ والا حصہ آہستہ صاف کریں۔ پسینہ، تیل اور گرد اس سینسر کو بہت متاثر کرتے ہیں۔
  2. ٹیمپرڈ گلاس یا اسکرین پروٹیکٹر غور سے دیکھیں۔ اگر وہ اوپر تک چڑھا ہو، اس میں بلبلہ ہو، دراڑ ہو یا وہ سینسر کو ڈھانپ رہا ہو تو وہی مسئلہ بنا سکتا ہے۔ پروٹیکٹر اتار کر یا درست سائز کا لگوا کر آزمائیں۔
  3. کور اتار کر ایک کال کریں اور دیکھیں کہ مسئلہ رہتا ہے یا نہیں۔
  4. فون کو میز پر سیدھا رکھ کر استعمال کریں اور ہاتھ اوپر والے کنارے سے دور رکھیں۔

یاد رکھیں، سینسر پر پانی، صفائی والا محلول یا تیز کیمیکل نہ لگائیں۔ صرف خشک نرم کپڑا کافی ہے۔ بازار سے پروٹیکٹر لگواتے وقت دکاندار سے کہیں کہ اوپر والے سینسر والا حصہ کھلا رکھے۔

اگر اسکرین بند ہونے کے ساتھ ٹچ بھی ٹھیک کام نہیں کرتا تو فون کا ٹچ ٹھیک کرنے کی رہنمائی دیکھیں۔

پانچویں وجہ: بیٹری سیور اور اسکرین سیور کی سیٹنگز

بیٹری بچانے والا موڈ آن ہو تو کئی فون اسکرین کا وقت خود کم کر دیتے ہیں، تاکہ بیٹری زیادہ دیر چلے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ والے دنوں میں بہت سے لوگ یہ موڈ آن کر کے بھول جاتے ہیں اور پھر اسکرین جلدی بند ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ سیٹنگز میں جا کر بیٹری والا حصہ کھولیں اور دیکھیں کہ بیٹری سیور آن تو نہیں۔ اگر آن ہے تو اسے بند کر کے ٹائم آؤٹ دوبارہ ایک یا دو منٹ پر رکھیں۔

اگر آپ نے حال ہی میں کوئی بیٹری بچانے والی ایپ لگائی ہے تو اسے عارضی طور پر ہٹا کر دیکھیں۔

بیٹری سیور کے درست استعمال اور بیٹری لمبی چلانے کے لیے موبائل کی بیٹری زیادہ دیر کیسے چلائیں بھی پڑھیں۔

چھٹی وجہ: کسی ایک ایپ میں ہی اسکرین بند ہوتی ہے

غور کریں کہ اسکرین ہر جگہ بند ہوتی ہے یا صرف کسی ایک ایپ میں۔ اگر مسئلہ صرف ویڈیو دیکھتے ہوئے، کتاب پڑھتے ہوئے یا کسی ایک کھیل میں آتا ہے تو اس ایپ کی اپنی سیٹنگ دیکھیں۔ کئی ویڈیو اور پڑھنے والی ایپس میں اسکرین روشن رکھنے کا اختیار ہوتا ہے۔ وہ اختیار بند ہو تو ایپ فون کے عام ٹائم آؤٹ پر چلنے لگتی ہے۔

ایپ کو تازہ ترین صورت میں لے جائیں اور فون ایک بار بند کر کے دوبارہ چلائیں۔ پرانا عارضی ڈیٹا بھی کبھی کبھار اسکرین کے رویے کو بگاڑ دیتا ہے۔ اگر ایک ہی ایپ بار بار یہی کرے اور باقی فون ٹھیک چلے تو اس ایپ کو ہٹا کر سرکاری ذریعے سے دوبارہ لگانا بہتر ہے۔

آخری قدم: فون دوبارہ چلائیں اور تازہ کاری دیکھیں

اس کے بعد بھی مسئلہ رہے تو فون ایک بار دوبارہ چلائیں اور سافٹ ویئر کی تازہ کاری دیکھیں۔ تازہ کاری وائی فائی پر کریں؛ اس کے لیے بیٹری کم از کم آدھی ہونی چاہیے۔

اگر اس کے بعد بھی اسکرین چھوتے ہوئے بند ہو، لکیریں آئیں، رنگ بدلے یا فون گرنے کے بعد یہ مسئلہ شروع ہوا ہو تو یہ اندرونی خرابی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود فون کھولنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنی تصاویر اور اہم دستاویزات کا تحفظی نسخہ بنا کر کسی قابل اعتماد مرمت گاہ یا کمپنی کے سروس سینٹر سے جانچ کروائیں۔

اپڈیٹ کے دوران یا بعد میں مسئلہ آئے تو ایپس کو محفوظ طریقے سے اپڈیٹ کرنے کی گائیڈ مدد کرے گی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا اسکرین کا بار بار بند ہونا اسکرین خراب ہونے کی نشانی ہے؟

عام طور پر نہیں۔ زیادہ تر کیسز میں وجہ ٹائم آؤٹ، کور، پروٹیکٹر یا گندا سینسر ہوتا ہے۔ اسکرین میں لکیریں آنا، رنگ بدلنا یا چھونے پر ردعمل نہ دینا خرابی کی زیادہ سنجیدہ نشانیاں ہیں۔

ٹائم آؤٹ کتنا رکھنا سب سے بہتر ہے؟

ایک سے دو منٹ زیادہ تر لوگوں کے لیے بہترین ہے۔ پڑھنے اور ویڈیو کے شوقین افراد دو منٹ رکھیں۔ اس سے زیادہ رکھنے سے بیٹری بغیر ضرورت خرچ ہوتی ہے۔

کال کے دوران اسکرین بند ہو جائے اور واپس نہ جلے تو کیا کروں؟

پہلے اوپر والا سینسر صاف کریں، کور اور پروٹیکٹر اتار کر کال آزمائیں۔ اکثر گندگی یا غلط پروٹیکٹر ہی وجہ ہوتا ہے۔ پھر بھی ٹھیک نہ ہو تو فون دوبارہ چلائیں اور تازہ کاری دیکھیں۔

کیا خودکار روشنی ہمیشہ بند رکھنی چاہیے؟

نہیں۔ خودکار روشنی بیٹری بھی بچاتی ہے اور آنکھوں کے لیے بھی آسان ہے۔ صرف جانچ کے لیے بند کریں۔ اگر اسی سے مسئلہ بن رہا ہو اور بار بار مدھم ہو جائے تو اپنے ہاتھ سے روشنی رکھنا آپ کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔

آخری بات

اسکرین کا مسئلہ بڑا لگتا ہے مگر حل عام طور پر دو منٹ کی سیٹنگ میں چھپا ہوتا ہے۔ ترتیب سے یہ جانچ کریں، فون پھر سے سکون سے ساتھ دے گا۔

مزید رہنمائی کے لیے بیٹری بچانے کے طریقے اور ٹچ کے مسائل کی رہنمائی بھی احساس ٹپس پر پڑھیں۔

Leave a Comment

Ehsas Tips is an independent information website, not affiliated with the Government of Pakistan, the Ehsaas programme, BISP, or any mobile network.